ابنا: صوبہ خوست کے گورنر کے ترجمان روح اللہ سمون نے بتايا کہ يہ دھماکہ اس وقت ہوا جب افغان فوجي معمول کي گشت پر تھے - طالبان کےترجمان ذبيح اللہ مجاہد نے اس حملے کي ذمہ داري قبول کي ہے -
ياد رہے کہ نيٹو کي فوج دس سال قبل افغانستان ميں امن و امان بحال کرنے کے بہانے اس ملک ميں اتري ليکن جب سے افغانستان ميں غيرملکي افواج کا قدم آيا ہے اس ملک ميں امن و امان کي صورتحال اور بھي بدتر ہوگئي ہے..........
/169